اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی رژیم کی جنوبی لبنان پر بمباری نے صرف رہائشی علاقوں، سڑکوں اور زرعی زمینوں کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ قبرستان بھی اس حملوں کی زد میں آ گئے۔
الجزیرہ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے قصبے میفدون کے قبرستان میں اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ قبروں کے درمیان ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے پڑے ہیں، فضائی حملوں کے باعث کئی قبروں کے کتبے اپنی جگہ سے اکھڑ چکے ہیں، بعض دھماکوں سے جھک گئے ہیں جبکہ کئی پر گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ گرد کی دبیز تہہ نے ان ناموں کو بھی ڈھانپ لیا ہے جن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بعد انہیں جنگ سے دور ہمیشہ کا سکون نصیب ہو گیا ہوگا۔
اسی قبرستان میں حسن حلال اپنی پانچ سالہ شہید بیٹی نرجس کی قبر تلاش کرتے ہیں۔ وہ اس راستے سے بخوبی واقف ہیں، لیکن ہر بار قبر کے قریب پہنچتے ہوئے ان کے قدم سست پڑ جاتے ہیں، جیسے یہ فاصلہ اب میٹروں میں نہیں بلکہ دل کے زخموں کی گہرائی سے ناپا جاتا ہو۔
وہ نرجس کی قبر پر پہنچ کر خاموشی سے اس پر جمی مٹی صاف کرتے ہیں، قبر کے کتبے پر پڑی سوکھی ٹہنی ہٹا دیتے ہیں اور کچھ دیر خاموش کھڑے رہتے ہیں۔ نہ ان کی زبان پر کوئی دعا آتی ہے اور نہ آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، کیونکہ اس بے پناہ غم کے سامنے خاموشی ہی ان کے جذبات کی واحد ترجمان بن چکی ہے۔
وہ رات جس نے سب کچھ بدل دیا
صرف چند ماہ پہلے تک پانچ سالہ نرجس اپنی معصوم ہنسی اور ننھے ننھے سوالوں سے گھر کو آباد رکھتی تھی، مگر 2 مارچ 2026 کی رات، جب صہیونی رژیم نے لبنان پر جنگ مسلط کی، حسن کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
حملوں کے آغاز کے وقت حسن اپنے کام پر تھے۔ بیروت، جنوبی لبنان اور وادی بقاع پر شدید بمباری کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔ ابتدا میں انہیں اس سانحے کی شدت کا اندازہ نہیں تھا، لیکن دل میں ایک ہی احساس پیدا ہوا کہ اب زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
انہوں نے بار بار گھر فون کیا، مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ ان کی اہلیہ سے بھی رابطہ نہ ہو سکا، پڑوسی بھی کوئی اطلاع نہ دے سکے۔ ہر طرف صرف ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی کہ عمارت مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔
حسن کئی گھنٹوں تک مختلف اسپتالوں، ایمبولینسوں اور متضاد اطلاعات کے درمیان اپنی بیٹی کی تلاش کرتے رہے، یہاں تک کہ آخرکار تلخ حقیقت سامنے آ گئی۔ ان کی پانچ سالہ بیٹی نرجس شہید ہو چکی تھی۔
آپ کا تبصرہ